میلادالنبی ﷺ اور علماء دیوبند کا مسلک

حضرت مولانا مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب مدظلہم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم
اور علماء دیوبند کا مسلک

علماء دیوبند پر یہ تہمت اور الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر مبارک کرنے یا اس پر خوش ہونے سے منع کرتے ہیں ، حالانکہ ہرگز یہ بات نہیں ہے ،بلکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاذکر کرنا تو ہمارے ایمان کا حصہ ہے ، ہاں البتہ جو باتیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہیں ، ان سے ہم ضرور روکیں گے ، اگر چہ بذاتِ خود وہ باتیں اچھی ہی کیوں نہ ہوں ، شریعت میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
دیکھئے !اس بات پر تمام علماء کرام کا اتفاق ہے کہ عین دوپہر کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے ، اور اس بات پر بھی کہ قبلہ روہوئے بغیر نماز پڑھنا منع ہے ، اور اس پر بھی سب علماء کرام کا اتفاق ہے کہ عید الاضحی اور عیدالفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے ، اور اس مسئلہ پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ محرم کے مہینے میں حج نہیں ہوسکتا اور حج کرنے کی جگہ صرف مکہ مکرمہ ہے ، کراچی میں حج نہیں ہوسکتا۔
دیکھئے ! نماز ، روزہ ، حج سب فرائض ہیں ؛ لیکن چونکہ ان کی ادائیگی شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے خلاف ہوئی ہے ، اس لئے یہ ناجائز ہوگئے اور ان کے ناجائز ہونے کو آپ بھی مانتے ہیں ، لہٰذا اگر کوئی شخص ایسی نماز ، روزہ اور حج وغیرہ سے منع کرے گا، تو اس کو کوئی عقلمند انسان یوں نہ کہے گا کہ یہ آدمی نماز، روزہ حج سے منع کرتا ہے ۔
اسی طرح میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ کو لے لیجئے کہ ہمارے بزرگان دیوبند کے بارے میںیہ کہنا کہ یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا ذکر کرنے یااس پر خوش ہونے سے منع کرتے ہیں تو یہ سراسر تہمت اور الزام تراشی ہے ۔
بخدا ہم ہر گز اس سے منع نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہر چیز کو کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے ، جب وہ چیز اسی طریقے سے انجام دی جائے گی تو وہ درست اور صحیح ہوگی ۔ ورنہ درست نہ ہوگی ۔
اب دیکھئے ! تجارت کے سلسلہ میں حکومت نے کچھ قواعد وضوابط مقرر کردیئے ہیں ، اب اگر کوئی شخص ان قواعد کے خلاف تجارت کرے گا، تو وہ قانون کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے سزاکا مستحق ہوگا، مثال کے طورپر اسلحہ وغیرہ کی تجارت وہی آدمی کرسکتا ہے ، جس نے لائسنس حاصل کیا ہو ، اسی طرح شریعت میں بھی ہر چیز کو کرنے کا ایک ضابطہ مقرر ہے ، اس کے خلاف اگر کوئی کام کیا جائے گا تو وہ درست نہ ہوگا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبار ک عبادت ہے
بہر حال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا ذکر مبار ک ایک عبادت ہے ، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کو کرنے کا شریعت میں کیا ضابطہ اور طریقہ مقرر ہے ، مثلاً صحابہ ؓ نے اس عبادت کو کس طرح اداکیا، اب اگر آپ لوگ اس کو اُن ہی کے طریقے کے مطابق انجام دیں تو بہت اچھی بات ہے ،لیکن اگر اس کو صحابہ کرام ؓ کے طریقے کے مطابق انجام نہ دیا جائے تو بلاشبہ اس سے منع کیا جائے گا، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اسلحہ وغیرہ کی تجارت سے اس لئے منع کرے کہ آپ کے پاس اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے ، تو اس کو تجارت سے روکنے والا نہیں کہا جائے گا۔
شریعت کا ضابطہ
ایک اور مثال کہ خوش ہونا کہیں جائز ہے ، اور کہیں ناجائز ہے ۔ جو خوشی شریعت کے مطابق ہوگی وہ جائز ہوگی ۔ اور جوشریعت کے خلاف ہوگی وہ ناجائز ہوگی ۔ لہٰذا شریعت کے ضابطے کے مطابق جو خوشی جائز ہے اس کی اجازت ہے اور جو اس کے خلاف ہے وہ ناجائز ہے اور ممنوع ہے ، مثال کے طورپر کوئی شخص نماز پر خوش ہو، اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے ، لیکن خوشی میں یہ کرلے کہ بجائے چاررکعت کے پانچ رکعت پڑھنے لگے ، تو اس کو ثواب تو کیا ملے گا ، بلکہ الٹا گناہ ہوگا، اس لئے کہ وہ شریعت کے ضابطہ کے خلاف کررہا ہے ، اور اس کے بتائے ہوئے طریقے کے خلاف نماز پڑھ رہا ہے ، بالکل اسی طرح حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کرنا اگر شریعت کے مطابق ہوتو جائزہے ، ورنہ ناجائز ہے ، مثال کے طورپر ایک شرعی مسئلہ ہے کہ جوشخص چاررکعت والی نماز میں پہلے قعدہ میں تشہد کے بعد “اللھم صلِّ علی محمد” پڑھ لے تو اس کی نماز ناقص ہوگی اور اس پر سجدۂ سہو کرنا واجب ہوگا، اگر بھول کر اس نے ایسا کیا ہے ، حالانکہ درود شریف کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :

مَنْ صَلَّی عَلَیَّ مَرَّۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ عَشَراً (أوکماقال)
ترجمہ : جس نے مجھ پر ایک باردرود بھیجا تو اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت فرمائیں گے ۔

توچونکہ شریعت نے نماز میں درود شریف پڑھنے کا جو موقع مقرر کیا ہے اس کی خلاف ورزی ہوگئی، اس لئے نماز ناقص ہوگئی ، حالانکہ درود شریف پڑھنا بذاتِ خود عبادت ہے ۔
غرض یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت پر خوش ہونے سے کوئی منع نہیں کرسکتا، اور یہ مسئلہ بالکل واضح ہے مگر اس بارے میں طویل گفتگو اس لئے کی گئی کہ ہمارے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنے سے منع کرتے ہیں ، حالانکہ ہم پر یہ الزام سراسر غلط ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی اہمیت
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبار ک کرنا تو وہ چیز ہے کہ اس پر اگر اجر وثواب کا وعدہ نہ بھی ہوتا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہروقت کیا جائے ، جیسے کسی نے کہا: مَنْ اَحَبَّ شَئْیاً اَکْثَرَ ذِکْرَہُ جو شخص جس چیز سے محبت کرتا ہے ، اس کا تذکرہ کثرت سے کرتا ہے۔
اس عربی مقولہ کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہروقت کیا جائے ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنا عین عبادت بھی ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اتنی جگہ فرمایا ہے کہ مسلمان سے کہیں نہ کہیں ذکرہو ہی جاتا ہے ، دیکھئے نماز کے اندر ہر قعدہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر موجود ہے ، اور وہ یہ ہے “اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ” اور ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازوں میں دو، دو قعدے ہیں اور فجر کی نماز میں ایک قعدہ ہے ، تو کل نوقعدے ہوئے اور سنن مؤکدہ اور وتر میں دیکھ لیجئے کہ ظہر میں تین ، مغرب میں ایک ، عشاء میں تین اور صبح میں ایک ، تو کل ۱۷ قعدے ہوئے ، تو یہ ۱۷ مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوا ، پھر پانچوں وقت کے فرائض اور سنن ووتر کے قعدئہ اخیرہ میں کل گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھاجاتا ہے ، پس ۱۷ اور ۱۱ بار ہوا ، تو اس طرح ہر مسلمان روزانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کرہی لیتا ہے ، پھر ایک موقع پانچوں وقت کی اذان اور تکبیر میں ہے جس میں “اشھد ان محمد ارسول اللہ” موجود ہے ، جس کومؤذن اور سننے والا دونوں کہتے ہیں ، پھر ہر نماز کے بعد دعا بھی سب ہی مانگتے ہیں ، اور دعا مانگنے کے آداب میں سے یہ ہے کہ اس کے اول و آخر درود شریف پڑھا جائے ، غرض اس حساب سے ۲۸ سے بھی زیادہ مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کامبارک ذکر ہوگیا ، اور یہ تو وہ مواقع ہیں کہ جن میں پڑھے بے پڑھے سب شامل ہیں ، اور جو طلباء کرام دن رات حدیث شریف پڑھتے ہیں وہ تو ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر میں رہتے ہیں ، اس لئے کہ ہر حدیث کے شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ درود شریف موجود ہے، چنانچہ احادیث کی کتابیں اٹھاکر دیکھئے کہ ان میںجگہ جگہ “قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” اور عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے ، اور درمیان میں بھی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک آیا ہے وہاں بھی درود شریف موجود ہے ، گویا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک اس طرح ملادیا گیا ہے کہ بغیر ذکر مبارک کئے مسلمانوں کو چارہ نہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہر وقت
مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی ؒ سے کسی نے پوچھا کہ ذکر ولادت آپ کے نزدیک جائز ہے یا ناجائز ہے ؟انہوں نے فرمایا کہ ہم تو ہر وقت ذکر ولادت کرتے ہیں ، اس لئے کہ ہر وقت کلمہ “لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” پڑھتے ہیں ، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا نہ ہوتے تو ہم یہ کلمہ کہاں پڑھتے ۔
محبت کا معیار
لہٰذا محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر وقت ذکر ہو ، لیکن اس کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ جلسے منعقد کئے جائیں اور مٹھائی منگوائی جائے ، تب ذکر ہوگا ، عاشق کو اتنی دیر کیسے صبر آسکتا ہے ؟
محبوب کی یاد میں بے قرار
دیکھئے ! اگر کسی کوکسی سے محبت ہوجاتی ہے ، تو محبت کرنے والے کی کیا حالت ہوتی ہے ،ہر وقت اس کی یاد میں بے قرار رہتا ہے اگر اس سے کوئی کہے کہ میاں ذرا ٹھہر جاؤ ، ہم مجلس آرائی کرلیں ، اور مٹھائی منگوالیں اس وقت ذکرکرنا ، تو وہ کہے گا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری محبت جھوٹی ہے ، کہ اتنی دیر تک محبوب کے ذکر سے رکے رہتے ہیں ، اور ہم نے اکثر مجلسوں میں میلاد کرنے والوں کو ایسا ہی دیکھا ہے کہ کہ یہ محبت سے بالکل خالی ہوتے ہیں ، اس لئے کہ محبت کا معیار تو یہ ہے کہ اپنے محبوب کی خوب اطاعت کی جائے ، کسی نے خوب کہا:
تعصی الرسول وانت تظھر حبہ __ ھذا لعمری فی القیاس بدیع
لو کان حبک صادقا لأ طعتہ __ ان المحب لمن یحب مطیع
ترجمہ: یہ عجیب بات ہے کہ تم رسول سے محبت وعشق کا دعویٰ بھی کرتے ہو اور اس کی نافرمانی بھی کرتے ہو، یہ دونوں باتیں کیسے جمع ہوسکتی ہیں ، اگر تم محبت میں سچے ہو تے تو رسول کی اطاعت کرتے ، کیونکہ آدمی جس سے محبت کرتا ہے ، اس کا فرمانبردار ہوتا ہے ۔
سیر ت کے جلسے اور نمازیں قضاء
ذکر ولادت کرنے والوں کو دیکھا ہے کہ مجلس میلاد کا اہتمام کرتے ہیں ، بانس کھڑے کررہے ہیں ، ان پر کپڑے لگارہے ہیں اور قمقمے لگارہے ہیں جو عام طور پر چوری کی بجلی سے چل رہے ہوتے ہیں ،اور اگر اسی دوران نماز کا وقت آجائے تو نماز نہیں پڑھتے ، اور ڈاڑھی مونڈتے ہیں ، کیوں جناب ! کیا رسول سے محبت کرنے والے ایسے ہوتے ہیں ؟ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حق ہے کہ پانچ روپے کی مٹھائی منگواکر تقسیم کردی جائے اور سمجھ لیاجائے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا حق اداکردیا؟کیا آپ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ کوئی پیشہ ورپیرزادہ سمجھ لیا ہے ؟ کہ تھوڑی سی مٹھائی پر خوش ہوجائیں توبہ توبہ ، نعوذ باللہ ، یادرکھو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایسے محبت کرنے والے سے خوش نہیں ہیں ، سچے محبت کرنے والے تو وہ ہیں جو اپنے قول وفعل ، وضع قطع ہر چیز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرتے ہیں اور ان کی اطاعت وفرمانبرداری کرتے ہیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

(ماہنامہ البلاغ | صفر المظفر 1438 ھ)

/* ]]> */