طبِ نبویﷺ

Scan-181002-0001 (2)_1

طبِ نبویﷺ

طبع جدید : طبع جدید : دلحجہ ۱۴۲۵ فروری ۲۰۰۵
ناشر : ناشر : مکتبۃ الاسلام کراچی
کل صفحات : کل صفحات : 40
ڈاؤن لوڈ سائز : سائز : 09.97 MB

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

 مرض دو طرح کا ہوتا ہے ۔ ایک مرض جسمانی دوسرا قلبی۔ جس طرح جسم بیمار ہوتا ہے اس طرح قلب بھی بیمار ہو جاتا ہے  جیساکہ قرآن کریم  میں فرمایا گیا ہے ۔ (فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ) مگر ان امراض کی نوعیت میں فرق ہے۔

قلبی امراض، مثلا گمراہی آجانا، شکوک و شبہات کا پیدا ہوجانا،  رذائل اور برے اخلاق ہونا وغیرہ۔ ان کے معالجہ کے لئے شیخ اور تصوف کی ضرورت ہے۔

نبی کریم ﷺ نے روحانی علاج تو ارشاد فرمائے ہیں ، اس لئے کہ آپ روحانی طبیب اعظم تھے مگر آپ نے طبِّ جسمانی کی طرف بھی راہنمائی فرمائی ہے اور ہدایات دی ہیں۔

اسی کی طرف توجہ دلانے کےلئے یہ چند اوراق تحریر میں لانے کا ارادہ ہے۔ وباللہ التوفیق

(۱)۔۔ صحت کی حفاظت

(۲)۔۔ مادۂ فاسدہ کا استخراج

(۳)۔۔ پرہیز

اور یہ تینوں اُصول قرآن سے نکل آتے ہیں ۔ چنانچہ مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے تاکہ صحت قائم رہے، اسی طرح (فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ) یہ بھی حفظِ صحت کے لئے ہے۔

قربانی کرنے کے بعد سر منڈانے کا حکم ہے تاکہ سر کے مساماتْ  کھل جائیں اور مادۂ فاسدہ کا استخراج ہوجائے ،اور جب پانی کا استعمال ضرردے تو تیمم کرنے کا حکم ہے، یہ پر ہیز ہے۔ پانی کا استعمال روک دیا گیا ہے۔

جسمانی  علاج سو یہ زمان ومکان  وحالات کے اعتبار سے مختلف ہوتا رہاہے اور ہوسکتا ہے اہل عرب ”تَرکْ “ سے علاج کرتے تھے۔ مثلا کھانا ترک کر دیا ۔ سابقہ اہل ہند مفردات سے اور یونای مرکبات سے علاج کرتے تھے، ہاں اس بات پر تقریبا سب متفق ہیں کہ جب تک غذا سے علاج ہو سکتا ہے دوا استعمال نہ کرائی جائے اور اسی طرح جب تک مفردات سے علاج ہو سکتا ہے ، مرکبات  استعمال نہ کریں ، اسی لئے بچوں کی دوا جب اپنی حد سے بڑھ جاتی ہے تو سلیم اعضاء کو نقصان دیتی ہے، ان کا علاج غذا ہی سے بہتر ہے۔ ویسے یہ تجربہ کی بات ہے کہ جو لوگ مفرد غذاکھاتے ہیں ان کا مرض مفرد  دوا سے دور ہا جاتاہے ، اور جو لوگ کئی کئی مرکب غذا ئیں استعمال کرتے ہیں ان کا علاج مرکبات ہی سے ہوتا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہر مرض کی دوا ضرور پیدا کی ہے چنانچہ صحیحین میں حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے آ نحضرت ﷺ  نے فرمایا: ”خدانے کوئی ایسا مرض پیدا نہیں فرمایا جس کی دوانہ اُتاری ہو اور نہ پیدا کی ہو۔“

اب سوال یہ ہے کہ جب مرض کی دوا اللہ نے پیدا کی ہے تو بعض مرتبہ دوا سے شفا کیوں نہیں ہوتی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض مرتبہ مرض کی پہچان نہیں ہوتی ، بعض مرتبہ دوا کی مقدار میں فرق ہو جاتاہے یا مرض اور ہے دوا اور ہے،ورنہ وحی الھٰی  میں غلطی ناممکن ہے۔

حدیث شریف  سے معلوم ہوتا ہے کہ امراض جسمانی کی جڑ فسادِ معدہ ہے ۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے ابن آدم نے کوئی برتن اس حصہ سے نہیں بھرا جتنا کہ پیٹ کا برتن بھر لیا۔ ورنہ ابن آدم کے لئے چند لقمے وہی کافی تھے جس سے کمر مضبوط ہو جاتی،  اور کھانا ہی ہے تو پیٹ کے تین حصے کرلے۔ ایک حصہ خوراک کے لئے ایک حصہ پانی کے لئے، ایک حصہ سانس  لینے کے لئے چھوڑ دیں۔ (ترمذی ، ابن ماجہ، حاکم، ان حبان)

معدے سے دو طرح کے امراض  پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا کھانا ہضم ہونے سے پہلے دوسرا بھر لینا، یا بدن کو  جتنی خوراک کی ضرورت تھی اس سے زائد کھا لینا ،یا پھر کم نفع  کثیر الضرر غذا کھالینا۔

 حضرت اما شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے سوال سال پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا کیونکہ اسے سستی ، قساوتِ قلبی پیدا ہوتی ہے، نیند زیادہ آتی ہے، جس سے عبادت میں سستی ہوتی ہے، البتہ گاہے بگاہے ایسا کرلینا مضائقہ ندارد۔

 

بندہ عبد الحکیم سکھروی غفرلہ

 

 

/* ]]> */