مقالات و مضامین

Scan-200711-0001

مقالات و مضامین

طبع جدید : طبع جدید : ۔۔۔۔
ناشر : ناشر : مکتبۃ الاسلام کراچی
کل صفحات : کل صفحات : 420
ڈاؤن لوڈ سائز : سائز : 37 MB

بقلم حضرت مو لانا مفتی عبدالروف صاحب سکھروی مد ظلم العالی
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلاة والسلام على رسول الله الکریم محمد والہِ الیٰ یومِ الدین امّا بعد!

احقر کے والد ماجد سیّدی حضرت مولانا مفتی عبدلاحکیم صاحب رحمتہ اللہ علیہ مفتی اعظم پاکستان سیّدی وسندی حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے اجل خلفاء میں سے تھے،اور سکھروالوں کو اور سکھر شہر سے باہر والﷺن کو ان سے بہت زیادہ دِینی اور اصلاحی فائدہ ہوا:۔
*:۔ ایک حضرت والد صاحب رحمتہ اللہ علیہ۔
*:۔ دوسرے حضرت سّید حکیم محمد ابراہیم رزمیؒ۔
*:۔ تیسرے حضرت ڈاکٹر حفیط اللہ صاحبؒ۔
ان تینوں میں سے سب سے زیادہ جن کا فیض پھیلا اور ہزاروں آدمی ان سے متفید ہوئے وہ حضرت مولانا مفتی عبدلحکیم صاحبؒ تھے، انہوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت کرنے اور لوگوں تک دِین پہنچانے جے لئے وقف کر رکھی تھی۔
فجر کے بعد محلّہ باغِ حیات کی معروف نورانی مسجد میں درسِ قرآنِ کریم یا درسِ حدیث دیا کرتے تھے، اور اِشراق و چاست سے فارغ ہوکر گھر تشریف لاتے اور ناشتہ کرتے، اور اس دوران ہم بہن بھائیوں کی عربی کی کوئی نہ کوئی کتاب پڑھاتے۔ اس کے بعد جامعہ اشرفیہ کوئنس روڈ تشریف لے جاتے اور شام تک وہااسباق پڑھاتے،وہاں سےفارغ ہوکر نورانی مسجد میں تشریف لاتے اور مغرب تک وہاں تشریف رکھتے اور شہروالوں کی دیِنی مسائل بتلاتے،کبھی وغظ فرماتے، کبھی بزرگوں کے واقعات سناتے اور کبھی کسی غم زدہ کا دکھڑا سن کر تسلی دیتے۔ بعد مغر ب اوّانین وغیرہ سے فارغ ہوکر نمازِ عشاء کے لئے تشریف لے جاتے،عشاء کے بعد بعض خاص خاص اصباب کو خواہ برادری سے تعلق رکھتے ہوں یا دوسرے خاندانوں سے، تعلیم بالغاں کا اہتمام فرماتے، جس میں ان کو بقدرِ ضرورت عربی زبان سکھاتے اور ترجمہ قرآنِ کریم، نور الایضاح، قدوری وغیرہ اک سبق پڑھاتے، اس کے بعد گھر تشریف لاتے اور گھر والوں سے کچھ دیر باتیں کرتے،بزرگوں کی حکایات سناتے اور آرام فرماتے، اخیرت شب میں اٹگتے اور دوازدہ تسبیح ہلکی آواز اور نہایت شریت شیریں انداز سے پڑھتے،آج تک اس کی چاشنی کانوں کو محسوس ہوتی ہے۔
پڑوسیوں کا، ملنے جلنے والوں کا،دوست احباب کا بے حد خیال رکھتے،کوئی بیمار ہو جاتا اس کی عیادت کرتے،کوئی انتقال ہوجاتا اس کو نہلاتے اور نماز پڑھ کر دفنانے میں شریک ہوتے، امیر وغریب ہر شخص کی دعوت قبول کرتے،جہاں دینِ کی بات کہنےکا،بتانے کا کوئی موقع آتا انتہائی نرمی اور سہل انداز میں دینِ کی بات بتاتے کہ سننے والا سمجھتا کہ دینِ پر چلنا کوئی مشکل کام نہیں،بخوشی وہ اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوجاتا، یہ وصف یعنی دینِ کو آسان انداز میں پیش کرنا،آپ میں بہت ہی نمایاں تھا۔
علم کا پہاڈتھے،تقوے کے اِمام تھے،حلم و برداری کا عملی نمونہ تھے،اپنی ذات کے لئے کبھی کسی پر غصہ نہ کرتے،ہاں اللہ کے واسظے غصہ آتاتھا،ورنہ ایسا لگتا تھا کے غصہ ان کے پاس سے بھی نہیں گزرا،جس کی وجہ سے ان کے مریدین و معتقدین بھی ان کے ساتھ دوستوں کی طرح بے تکلف رہتے،یہ محسوس نہیں ہوتاتھا کی یہ پیر اور وہ ان کی مرید ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر شخص بلاجھجک ان کی خدمت میں حاضر ہوتا،اپنے مسال کا حل پو چھتا اور ان سے فیض یاب ہوتا،جس کی وجہ سے ہزارں بدعتی،بدعات سے تائب ہوگئے،کتنے ہی بدمعاش اور آوارہ،اللہ کے والی بن گئے،لوگوں میں حلال و حرام کی تمیز پیدا ہو ئی،اتباعِ سنت کا جزبہ پیدا ہوا،اور لوگ سنت کی راہ پر گامزن ہو گئے۔
حضرت والد صاحبؒ نے زبانی وغظ ونصیحت کے علاوہ،دینِ کے مختلف موضوعات پر بیسیوں بڑی نافع،آسان اور عام فہم کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں،اور ،ماہنانہ’’البلاغ‘‘ میں مختلف مقالات اور مضامین بھی لکھے ہیں، جوتقریباً۲۶ ہیں،یہ مضامین بڑے نافع اور مفیدہیں، جس طرح یہ اشاعت کے شروع میں مسلمانوں کے لئے بہت مفید اور کارآمد تھے،آج بھی اسی طرح نافع اور مفید ہیں۔
مدّت دراز سے میرے دِل میں یہ خواہش تھی کہ حضرت والد صاحبؒ کے ان تمام مضامین کو یکجا کرکے شائع کیا جائے،چنانچہ احقرر نے ماہنامہ’’البلاغ‘‘ کی فائل سے ان سب مضامین کی فوٹو کاپی بھی جمع کرلی تھی،لیکن یہ خدمت اخی فی اللہ مکرمّی جناب حافظ سیّد اکبر شاہ بخاری صاحب کی قسمت میں لکھی تھی، وہ بازی لے گئے،اور موصوف نے حضرت والدصاحبؒ کے یہ تمام مضامین جمع کئے اور جناب محترم محمد مشتاق ستّی صاحب کی خد مت میں اشاعت کے لئے بھیج دیئے،ماشاءا للہ انہوں نے بڑے سلیقے سے اس کو شائع کیا جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے،دیکھ کر دِل باغ باغ ہوگیا اور میری دیرینہ آرزو پوری ہو گئی،فللہ الحمد دائًما ابدً۔
اللہ پاک حضرت والد صاحبؒ کی با ل بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام فرمائے اور ان کی تمام خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے،اور ہم سب کو ان کے علوم فرمائے اور ان کے علوم فیوض سے مالا مال فرمائے، مرتب اور ناشر صاحبان اور جن جن حضرات نے ان مضامین کے قابلِ اشاعت بنانے میں خدمت کی ہے اللہ تعالیٰ ان کو بے حد جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنے دِین کی خدمت کے لئے موفّق اور قبول فرمائے،آمین۔

وصلّی اللہ تعالیٰ علی النبیّ الکریم محمد والہ واصحابہ اجمعین

عبدالروف سکھروی
خادم طلبہ ضامعہ دارلعلوم کراچی
۹/جماد الثانیہ ۱۴۲۷ھ
۶/جولائی ۲۰۰۶ء

/* ]]> */