سوانحِ حیات

Scan-200826-0001

سوانحِ حیات

طبع جدید : طبع جدید : ۔۔۔۔
ناشر : ناشر : مکتبۃ الاسلام کراچی
کل صفحات : کل صفحات : 726
ڈاؤن لوڈ سائز : سائز : 69.7 MB

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہِ الامین محمد وآلہ واصحابہ اجمعین
امابعد!

احقر کے والدِ ماجد حضرت مولانا مفتی عبدالحکیم صاحب سکھروی رحمتہ اللہ علیہ کا جب وصال ہوا تو آپ کے احباب اور متعلوین کے آپ کی سوانح حیات لکھنے کی فرمائش کی، حضرت والد صاحبؒ کے علمی،فلہی،اصلاحی، تربیتی اور عملی کمالات اتنے تھے کہ بندہ ان کو جمع کرنے اور ترتیب دینے کی اپنے اندر بالکل اہلیت نہیں پاتاتھا، تاہم اس بے مائیگی کے باوجود آپ کے احباب سے حالات وواقعات دریافت کرتا رہا اور ان کو جمع کرتا رہا،تا کہبعد میں ان کا انتخاب سوانح میں شامل پو سکے۔
حضرت ووالد صاحبؒ نے اپنی سوانح خود اپنے قلم سے بھی ایک ڈائری میں لکھی تھی، اس کی تلاش میں رہا، اس کے بغیر آپ کی سوانح لکھنا بہت مشکل تھا، کیونکہ اس میں حضرت والد صاحبؒ کی پیدائش سے لیکر پاکستان بنے سے پہلے اوع پاکستان بنے کے بعد کے حالات درجتھے، جو بہت تا خیر سے ملی۔
میرا خیال تھا کے اپنے چچا مولانا عزیز الرحیم دانشؒ سے سوانح مرتب کرنے کی درخواست کروں گا،کیونکہ وہ حضرت والد صاحبؒ کے حالات سے بخوبی واقف تھے اور عالم و فاضل ہونے کے ساتھ بہترین ادیب اور شاعر بھی تھے، بندہ کی نظر میں وہ اس کام کے زیادہ لا ئق اور موزوں تھے، لیکن آپ نے معزرت فرمالی،اس طرح وسوانح کا معاملہ ٹلتا رہا،دوسری طرف حضرت والد صاحبؒ کے احباب کا اصرار اور تقاضا بڑھتا رہا، بالآخر بندہ نے خودہی سوانح مرتب کرنے کا ارادہ کیا اور جب اور جتنی فرصت ملتی،اس کو تھوڑاتھوڑا لکھتا رہا، اس بناء پر اس کے مرتب کرنے میں گیر معمولی تا خیر ہوئی،تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل کرم سے یکم ۱۴۳۵ھ کو سوانح مکما ہوئی،فللّہ الحمدل.
حضرت والد صاحب رحمتہ الہ علیہ کی سوانح کے سات حصے ہیں:
٭پہلا حصہ: یہ حصہ حضرت والدصاحبؒ کیخود نوشت سوانح حیات کا ہے، اس میں یہ حصہ حضرت والدصاحبؒ نے اپنی وِلادت سے لیکر پاکستان بنے،اور پاکستان ہجرت کرنے تک کے، حالا لکھے ہیں جو بہت دلچسپ اور سبق آموز ہیں۔
٭ دوسراحصہ: اس میں بندہ نے اپنے داداحضرت مولانا عندلعزیر صاحبؒ کے حالات،ارشادات،اشعار اورع ان کی تعلیمات کا زکر کیا ہے۔

*تیسرا حصہ: اس میں بندہ نے حضرت والد ماجد حضرت مولانا مفتی عبدالحکیم صاحبؒ کا آنکھوں دیکھا حال لکھا ہے، اور ان کے اعمال، اخلاق،علمی و عملی خدمات اور زندگی کے آخری لمحات کا ذکر ہئ جو بہت اہم اور قابلِ تقلید ہے۔
*چوتھا حصہ : اس میں حضرت والد صاحبؒ کے وہ خطوط ہیں جو آپ نے اکثر میرے بڑے بھائی حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب مد ظلہم کی ترتیب کے لئے لکھے ہیں، کچھ آپ کے بعض احباب کے نام ہیں، ان میں بڑے کام کی باتیں درج ہیں، جن پر عمل کرنے سے دینا و آخرت درست ہوتی ہے۔
٭پانچواں حصہ: اس میں حضرت والدصاحبؒکے اپنے وہ اصلاحی خطوط ہیں جو آپ نے جو آپ نے وقتا اپنے اپنے شیخ حضرت مولانا مفتی محمد شفیح صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو لکھے تھے اور حضرت مفتی صاحبؒ نے ان کا جواب دیا، یہ حصہ بھی بہت اہم اور قیمتی تعلیمات پر مشتمل ہے۔
٭چھٹا حصہ: اس میں حضرت والد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے مریدین اور خلفاء کے وہ احوال ہیں جو انہوں نے بغرضِ اصلاح آپ کو لکھنے اور آپ نے ان کا جواب ایا، اس میں خط لکھنے والوں کے نا م حذف کردئے ہیں، صرف حا اور ارشاد کے عنوان سے انِ کو لکھاہے، طالبِ اصلاح کے لئے اب کا مبالعہ بھی بہت مفید ہے۔
٭ساتواں حصہ: اس میں حضرت والد صاحبؒ نے ہماری برادری مسلم راجپوت کنیری برادری کی تاریخ اور ان کے مسلمان ہونے کا واقعی بڑے دلچسپ اور ناصحانہانداز میں لکھا ہے اور جگہ جگہ اشعار اور نصیحتیں لکھی ہیں، شروع کریں تو چھوڑ نے کو دل نہ چاہے۔
مجھے احسا ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے حضرت والد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو جو گوناگوں علمی،عملی،فقہی اور اصلاحی کمالات عطا فرمائے تھے، وہ پورے طور پر نہ لکھ سکا۔ اب بھی آپ کی زندگی کے بہت سے گوشے تشنہ رہ گئے ہیإ، تا ہم اللہ تعا لیٰ کا شکر ہے کہ اس نے استعدادو صلاحیت نے ہونے کے با وجود جو ہو سکا، مرتب کروادیا،اس میں جو غلطی اور کوتاہی نظر آئے وہ بندہ کی ہے۔ مطلع فرما کر ممنون مرمائیں، جو مفید اور کام کی بات ملے وہ منجانب اللہ ہے،اس پر عمل کریں!
دل سو دعا ہے کہ اللہ تعا لیٰ حضرت والد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی بال بال مغفرت فرمائیں اور آخرت میں ان کو درجات علیہ عطا فرمائیں اور آپ کی تمام خدمات قبول فرمائیں۔ ہمیں اور آپ کو جسمانی اور رو حانی اولاد در اولاد اور متعلقین کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں،آمین ، بحرمۃ سیدّ المر سلین محمّد و آ لہ واصحابہ اجمعین

۶ْ۔۲۔۱۴۳۵ھ
۱۰۔۱۲۔۲۰۱۳ھ
بروزمنگل

/* ]]> */