سنِ عیسوی کی حقیقت

Scan-191203-0001

سنِ عیسوی کی حقیقت

طبع جدید : طبع جدید : ۸۔۔۹ ۔۔ ۱۴۳۹
ناشر : ناشر : مکتبۃ الاسلام کراچی
کل صفحات : کل صفحات : 46
ڈاؤن لوڈ سائز : سائز : 12.00 MB

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العٰلمین والعاقبۃ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم محمدو وآلہ وأصحابہ أجمعین إلىٰ يوم الدين.

اما بعد!

بچپن سے یہی سنا، یہی لکھا، یہی دیکھا کہ ہجری سَن مسلمانوں کا سَن ہے اور مروجہ عیسوی سَن عیسائیوں کا سن ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخِ ولادت سے شروع ہوتا ہے اور عام طور پر یہی مشہور بھی ہے، اس لئے ۲۰۱۸ کے آخر میں اکثر”ع“ یا  ”م“ (میلادی) لکھا جاتا ہے جو اِسی طرف اشارہ کرتاہے۔ جب اس کی تحقیق کا سوال عزیزم مولوی محمد سلمان سلّمہٗ وزادہ علماً وعمَلاً  کے پاس آیا ، اور موصوف نے ماشاء اللہ خوب محنت سے اس کی تحقیق کی تو یہ حقیقت کُھل کر سامنے آئی کہ عیسوی سن کی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخِ ولادت کی طرف کرنا درست نہیں، کیوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخِ ولادت محفوظ نہیں بلکہ در اصل یہ سَن ”شمسی“ ہے جیساکہ اسلامی سن ”قمری“ ہے۔

اور تحقیق کے بعد اس  طرف رجحان ہوا کہ یہ ایک استفتاء کے جواب میں لکھی گئی ہے جو دار الافتاء کے رجسٹر نقلِ فتاویٰ(تبویب) میں محفوظ ہوجائےگی، جبکہ عام مسلمانوں کو بھی اس سے آگاہی کی ضرورت ہے اس لئے اس کو کتابچہ کی شکل میں شائع کرنا منا سب معلوم ہواتاکہ عام مسلمان بھی سنِ عیسوی کی حقیقت سے باخبر ہوں۔

دل سے دعاہے  اللہ تعالیٰ عزیزم سلّمہٗ کی اس کاوش کو قبول فرمائیں اور عام مسلمانوں کے لئے اس کو نافع اور مفید بنائیں، آمین۔

و صلى الله تعالیٰ علی النبی الکریم محمدو وآلہ وأصحابہ أجمعین

 

بنده عبدالرّؤف سکھر وی عفاء اللہ عنہ

دار الافتاء جامعہ دار العلوم کراچی۸۔۹۔؁۱۴۳۹ھ

 

/* ]]> */