چند بڑے گناہ – زکوٰۃ نہ دینے کا گناہ

چند بڑے گناہ
زکوٰۃ نہ دینے کا گناہ

اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایمان اور نماز کے بعد سب سے بڑا رکن زکوٰۃہے،یہ ایسا مالی فریضہ اور پاکیزہ عبادت ہے جو پچھلے تقریباً تمام انبیاء ِ کرام علیہم السلام کی شریعتوں میں بھی جاری رہی ہے،اور نبی آخر الزمان،سید المرسلین، شفیع المذنبین حضرت محمد مصطفیٰ کی شریعت میں بھی اس کا حکم دیا گیا ہے۔اور قرآنِ کریم میں تقریباً۲۸؍مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لئے ہر عاقل و بالغ صاحبِ نصاب شخص پرزکوٰۃ فرض ہے، جو شخص زکوٰۃ کے فرض ہونے کا انکار کرے وہ کافر ہے، اور جو فرض ہونا تسلیم کرے لیکن صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود زکوٰۃ ادا نہ کرے وہ سخت گناہگار ہے۔نیز زکوٰۃ کا صرف جیب سے نکال دینا کافی نہیں، بلکہ اس کو صحیح مستحقین تک پہنچانا اور ان کوعملاً مالک اورقابض بناکر دینا ضروری ہے، اس کے بغیر زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔
قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں زکوٰۃ ادا کرنے کے بے شمار فضائل و برکات بتائے گئے ہیں،مثلاً :
۱ ۔۔۔ زکوٰۃ ادا کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا باعث ہے۔
۲ ۔۔۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔
۳ ۔۔۔ خوف و غم سے نجات ملتی ہے، اور نقصانات سے بچاؤ ہوتا ہے اور مال کا شر دور ہوتا ہے۔
۴ ۔۔۔ زکوٰۃ انسان کو گناہوں سے پاک کردیتی ہے اور جنت میں داخلے اور جہنم سے دوری کا ذریعہ ہے۔
۵ ۔۔۔ اللہ جل جلالہ کے غضب و ناراضگی اور بُری موت سے بچاؤ ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
جس طرح زکوٰۃ ادا کرنے کے بے شمار فضائل اور فوائد قرآن و حدیث میں آئے ہیں، اسی طرح زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر بڑی سخت وعیدیں آئی ہیں۔ مثلاً قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُونَہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ أَلِیمٍo یَوْمَ یُحْمٰی عَلَیْہَا فِی نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوبُہُمْ وَظُہُورُہُمْ ط ہٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِأَنْفُسِکُمْ فَذُوقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَo(التوبۃ:۳۴، ۳۵)
ترجمہ :اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو، جس دن اس دولت کو جہنم کی آگ میں تپایا جائیگا پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیاںاور ان کی کروٹیں(پہلو)اور ان کی پیٹھیں(پشتیں)داغی جائیں گی(اور کہا جائے گاکہ)یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، اب چکھو اس خزانے کا مزہ جو تم جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔
تشریح :یہ وعید اس مال کے لئے ہے جس کے وہ حقوق ادا نہ کئے گئے ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اس مال پر مقرر فرمائے ہیں، جن میں سے سب سے اہم زکوٰۃ کی ادائیگی ہے، بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ ویسے تو مالِ زکوٰۃ جہنم کی آگ میں تپاکر اس کے ذریعہ اس شخص کا پورا جسم ہی داغاجائے گا مگر خاص طور پر پیشانی، پہلو اور پشت کا ذکر اس لئے فرمایا کہ بخیل آدمی جو اپنا سرمایہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہیں کرنا چاہتا جب اس کے سامنے کوئی فقیر و مسکین اور زکوٰۃ کا طلبگار آتا ہے تو سب سے پہلے اس کی پیشانی پر بَل پڑتے ہیں، پھر وہ اس سے نظر چُرا کر دائیں یا بائیں پہلو کو موڑتا ہے اور پھر پشت پھیر کر چلا جاتا ہے اور زکوٰۃ نہیں دیتا۔ اس لئے عذاب کیلئے خاص طور پر ان تین اعضاء کا ذکر کیا، ورنہ در حقیقت یہ عذاب جسم کے سارے اعضاء کو ہوگا اور سارے جسم کو ہوگا۔
زکوٰۃ نہ دینے کی وعید سے متعلق چند احادیثِ طیبہ
حدیث نمبر ۱
عن زید بن أسلم، أن أبا صالح ذکوان، أخبرہ أنہ سمع أبا ہریرۃ،یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من صاحب ذہب ولا فضۃ، لا یؤدی منہا حقہا، إلا إذا کان یوم القیامۃ، صفحت لہ صفائح من نار، فأحمی علیہا فی نار جہنم، فیکوی بہا جنبہ وجبینہ وظہرہ، کلما بردت أعیدت لہ، فی یوم کان مقدارہ خمسین ألف سنۃ، حتی یقضی بین العباد، فیری سبیلہ، إما إلی الجنۃ، وإما إلی النار (صحیح مسلم ۲/۶۸۰)
ترجمہ:حضرت زید بن اسلم ؒ کہتے ہیں کہ حضرت ابوصالح ذکوان نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:کوئی سونا، چاندی (اور مال و دولت)رکھنے والا شخص ایسا نہیں جو اس کا حق (یعنی زکوٰۃ)نہ دیتا ہو ، مگر اس کا حال یہ ہوگا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اس شخص کو عذاب دینے کیلئے اس سونے چاندی اور مال و دولت کی چوڑی چوڑی تختیاں بنائی جائیں گی، پھر ان تختیوں کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا(یعنی خوب گرم کیا جائے گاجیسا کہ لوہا اور دیگر دھاتیں آگ میں خوب گرم کرنے سے سرخ ہوجاتی ہیں)پھر ان سے زکوٰۃ نہ دینے والے شخص کی کروٹ(پہلو)اور پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا، جب یہ تختیاں ٹھنڈی ہونے لگیں گی تو ان کو دوبارہ آگ میں تپا کر گرم کرلیا جائے گا، اور یہ کام اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی یعنی قیامت کے دن، یہاں تک کہ جب بندوں کا فیصلہ ہوجائے گا تو اسے یا جنت کا راستہ دکھا یاجائے گا یا جہنم کا۔
حدیث نمبر ۲
عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ : من آتاہ اللہ مالا، فلم یؤد زکاتہ مثل لہ مالہ یوم القیامۃ شجاعا أقرع لہ زبیبتان یطوقہ یوم القیامۃ، ثم یأخذ بلہزمتیہ یعنی بشدقیہ ___ ثم یقول أنا مالک أنا کنزک، (صحیح البخاری ۲/۱۰۶)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال دیاپھر اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کا مال اس کے پاس بڑے زہریلے، گنجے ناگ کی شکل میں آئے گا(یعنی اس کے سَر کے بال اس کے انتہائی زہریلے ہونے کی وجہ سے جَھڑگئے ہوں گے اور وہ نہایت خوفناک اور زہریلا ہوگا)، اس کی دونوں آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں گے،(ایسا سانپ بہت زہریلا ہوتا ہے، یہ اس ناگ کے شدید زہریلے ہونے کی علامت ہے) وہ ناگ زکوٰۃ نہ دینے والے شخص کی گردن میں لپٹ جائے گا اور اس کے دونوں جبڑے پکڑے گا(یعنی نوچے گا اور ان کو چیر دے گا) اور کہے گا:میں تیرامال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں (جس کی تو زکوٰۃ نہ دیتا تھا، آج اس کا عذاب بھگت)۔
حدیث نمبر ۳
عن علی کرم اللہ وجہہ فی الجنۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: إن اللہ فرض علی أغنیاء المسلمین فی أموالہم بقدر الذی یسع فقراء ہم ،ولن تجہد الفقراء إذا جاعوا وعروا إلا بما یضیع أغنیاؤہم ،ألا وإن اللہ عز وجل یحاسبہم یوم القیامۃ حسابا شدیدا، ثم یعذبہم عذابا ألیما (المعجم الصغیر للطبرانی۲/ ۲۷۵)
ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مسلمان مالداروں پر ان کے مال میں زکوٰۃ بس اتنی مقدار فرض کی ہے جو ان کے غریبوں کو کافی ہوجائے ، اور غریبوں کو بھوکے ننگے ہونے کی وجہ سے جب کبھی تکلیف اور مشقت ہوتی ہے تو اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ مالدار لوگ ان کا حق ضائع کرتے ہیں (یعنی وہ غریبوں کو زکوٰۃ نہیں دیتے)۔ یاد رکھیں(جو مالدار زکوٰۃ نہیں دیتے)بے شک اللہ عزّوجلّ ان مالداروں سے سخت حساب لیں گے اور ان کو درد ناک عذاب دیںگے۔
حدیث نمبر ۴
عن ابن عمر، قال: أقبل علینا النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: لم یمنع قوم زکاۃ أموالہم إلا منعوا القطر من السماء ، ولولا البہائم لم یمطروا (المعجم الکبیر للطبرانی۱۲/۴۴۶)
ترجمہ: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ان سے بارش روک لی جاتی ہے، اور اگر جانور نہ ہوتے تو بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برستا۔
حدیث نمبر ۵
وعن بریدۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما منع قوم الزکاۃ إلا ابتلاہم اللہ بالسنین رواہ الطبرانی فی الأوسط ورواتہ ثقات (الترغیب والترہیب ۱/۳۰۹)
ترجمہ :حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو قوم بھی زکوٰۃ نہیں نکالتی، اللہ تعالیٰ اس کو قحط سالی میں مبتلا فرمادیتے ہیں۔
تشریح
اس روایت سے معلوم ہوا کہ قحط سالی کا عذاب بھی زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی وجہ سے آتا ہے کہ ضروریاتِ زندگی کے ملنے میں تنگی ہوجاتی ہے۔ آج ہم میں اکثر مسلمان ضروریاتِ زندگی کی کمی اور مہنگائی کے وبال کا شکار ہیں، لیکن شاید ہی یہ خیال کبھی ذہن میں آتا ہو کہ در حقیقت اس تنگی اور پریشانی کی ایک وجہ زکوٰۃ ادا نہ کرنا ہے، اگر زکوٰۃ کی چوری معاشرہ سے ختم ہوجائے اور تمام صاحبِ نصاب مسلمان زکوٰۃ کے فریضہ کو خوشدلی کے ساتھ انجام دیں تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی فراوانی ہوجائے اور ہر شخص کو بآسانی ضروریاتِ زندگی حاصل ہوں اور ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو یہ حقیقت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین
حدیث نمبر ۶
قال عمر قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما تلف مال فی بر ولا بحر إلا بحبس الزکاۃ(الترغیب والترہیب ۱/۳۰۸)
ترجمہ:حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:خشکی ہو یا سمندر، جہاں بھی مال ضائع ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
حدیث نمبر ۷
وعن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرض علی أول ثلاثۃ یدخلون الجنۃ وأول ثلاثۃ یدخلون النار فأما أول ثلاثۃ یدخلون الجنۃ فالشہید وعبد مملوک أحسن عبادۃ ربہ ونصح لسیدہ وعفیف متعفف ذو عیال وأما أول ثلاثۃ یدخلون النار فأمیر مسلط وذو ثروۃ من مال لا یؤدی حق اللہ فی مالہ وفقیر فخور (الترغیب والترہیب ۱/۳۰۷)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے سامنے جنت میں جانے والے پہلے تین افراد اور جہنم میں جانے والے پہلے تین افراد پیش کئے گئے، سب سے پہلے جنت میں جانے والے تین افراد یہ ہیں:
(۱) ۔۔۔ شہید۔
(۲) ۔۔۔ وہ غلام جو اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے مالک کا بھی خیرخواہ ہو۔(یعنی اس کے حق میں بھی کمی نہ کرے)
(۳) ۔۔۔ وہ عیال دار شخص جو پاکباز ہو اور گزارے کے لائق روزی پر اکتفاء کرے، اپنی محتاجی بیان کرکے لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے۔
اور سب سے پہلے جہنم میں جانے والے تین افراد یہ ہیں:
(۱) ۔۔۔ زبردستی حکومت حاصل کرکے حکمران بننے والا۔
(۲) ۔۔۔ وہ مالدار شخص جو اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کا حق یعنی زکوٰۃ ادا نہ کرے۔
(۳) ۔۔۔ اترانے والا یعنی متکبر فقیر۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ جہنم میں سب سے پہلے جانے والے افراد میں وہ شخص بھی شامل ہے جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو۔
حدیث نمبر ۸
عن ابن مسعود، قال: من کسب طیبا خبثہ منع الزکاۃ، ومن کسب خبیثا لم تطیبہ الزکاۃ(المعجم الکبیر للطبرانی (۹/۳۱۹)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جوشخص پاکیزہ اور حلال مال کماتا ہے، زکوٰۃ ادا نہ کرنا اس پاکیزہ اور حلال مال کو خراب اور خبیث کردیتا ہے، اور جو شخص حرام مال کماتا ہے تو زکوٰۃ اداکرنے سے وہ پاکیزہ نہیں ہوتا (بلکہ حرام ہی رہتا ہے)۔
حدیث نمبر ۹
عن أنس بن مالک، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لا یقبل اللہ صلاۃ رجل لا یؤدی الزکاۃ حتی یجمعہما، فإن اللہ تعالی قد جمعہما فلا تفرقوا بینہما(حلیۃ الأولیاء وطبقات الأصفیاء (۹/۲۵۰)
ترجمہ :حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کی نماز قبول نہیں فرماتے جو زکوٰۃ نہ دیتا ہو، یہاں تک کہ وہ دونوں (یعنی نماز اور زکوٰۃ)حکموں پر عمل کرلے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں عبادات کو جمع فرمایا ہے(یعنی قرآنِ کریم میں دونوں کا حکم ساتھ ساتھ دیا ہے) تو تم ان کے درمیان تفریق نہ کرو(یعنی ان دونوں کو الگ الگ نہ کرو کہ نماز تو پڑھو مگر زکوٰۃ نہ دو، اگر ایسا کروگے تو اللہ تعالیٰ تمہاری نماز بھی قبول نہ فرمائیں گے)۔

حدیث نمبر ۱۰
عن عمرو بن شعیب، عن أبیہ، عن جدہ، أن امرأتین أتتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفی أیدیہما سواران من ذہب، فقال لہما: أتؤدیان زکاتہ؟، قالتا: لا، قال: فقال لہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أتحبان أن یسورکما اللہ بسوارین من نار؟ قالتا: لا، قال: فأدیا زکاتہ. (سنن الترمذی ۲/۲۲۲)
ترجمہ:نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس دو عورتیں آئیں اور ان دونوں نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان دونوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا:نہیں! آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:کیا تم یہ بات پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ انہوں نے عرض کیاکہ نہیں(یعنی ہم یہ بات پسند نہیں کرتیں)، آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔
تشریح:اس روایت سے معلوم ہوا کہ زیور کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی وجہ سے کیسا درد ناک عذاب دیا جائے گا۔ بعض خواتین زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنے میں کوتاہی اور غفلت کرتی ہیں اور اپنا دل تنگ کرتی ہیں، ذرا پوری توجہ سے ایک مرتبہ سوچیں کہ جو زیور وہ پہنتی ہیں اگر اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو یہی زیور جہنم کی آگ میں تپاکر پہنایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس دردناک عذاب سے سب کی حفاظت فرمائے اور زکوٰۃ اداکرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین
اس کے علاوہ اور بھی کئی احادیث میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر بڑی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، اس لئے جس مسلمان مرد و عورت پر زکوٰۃ فرض ہو اس کواپنے اموالِ زکوٰۃ کا صحیح صحیح حساب لگاکر زکوٰۃ ادا کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

٭٭٭

(ماہانہ البلاغ شعبان المعظم 1438ھ)

/* ]]> */