رجوع الی اللہ اورتوبہ کی اھمیت اورفضیلت (تیسری قسط)

رجوع الی اللہ اورتوبہ کی اہمیت اورفضیلت
(تیسری قسط)

حقوق العباد کی تفصیل اوراُن کی ادائیگی کااہتمام
توبہ کے لوازِم میں سے یہ بھی ہے کہ حقوق العباد کی تلافی کرے اورحقوق العباد کی تلافی کامطلب یہ ہے کہ بندوں کے جوحقوق واجب ہوںان سب کی ادائیگی کرے اوریہ حقوق دوقسم کے ہیں:
(۱)۔۔۔۔۔اوّل مالی حقوق
(۲)۔۔۔۔۔دوسرے آبرو کے حقوق
مالی حقوق
مالی حقوق کامطلب یہ ہے کہ جس کسی کاتھوڑابہت مال ناحق قبضہ میں آگیاہواُسے پتہ ہویانہ ہووہ سب واپس کردیں،مثلاً کسی کامال چرایاہو،ڈاکہ ڈالاہویاقرض لے کرمارلیاہو(قرض دینے والے کویادہو یانہ ہو)یاکسی سے رشوت لی ہویاکسی کے مال میں خیانت کی ہویاکسی کی کوئی چیز مذاق میں لے کررکھ لی ہو(جبکہ وہ اُس کودینے پراپنے نفس کی خوشی سے راضی نہ ہو)یاکسی سے سود لیاہوتواس طرح کے سب اموال واپس کردے،واپس کرنے کے لئے یہ بتاناضروری نہیںکہ میں نے آپ کی خیانت کی تھی،ہدیہ کے نام سے دینے سے ہی ادائیگی ہوجائے گی۔
آبروکے حقوق
آبروکی حقوق کی تلافی کامطلب یہ ہے کہ اگرکسی کوناحق مارا ہویاکسی کی غیبت سنی ہو،گالی دی ہو،تہمت لگائی ہو،یاکسی بھی طرح سے کوئی جسمانی یاروحانی یاقلبی تکلیف پہنچائی ہوتواُس سے معافی مانگ لے،اگروہ دور ہوتو اس کوعذرنہ سمجھے بلکہ خودجاکریاخط بھیج کرمعافی طلب کرے اورجس طرح ممکن ہواُس سے معافی مانگ کر اُس کوراضی کرے، اگرناحق مارپیٹ کابدلہ مارپیٹ کے ذریعہ دیناپڑے تواُسے بھی گوارا کرے،البتہ غیبت کے بارے میں اکابرنے یہ لکھاہے کہ اگر اُس کو غیبت کی اطلاع پہنچ چکی ہوتواُس سے معافی مانگے،ورنہ اُس کے لئے بہت زیادہ مغفرت کی دعا کرے،جس سے یقین ہوجائے کہ جتنی غیبت کی تھی یاغیبت سنی تھی،اُس کے بدلہ اُس کے لئے اتنی دعا ہوچکی ہے کہ اس دعاکے دیکھتے ہوئے وہ ضرورخوش ہوجائے گااورغیبت کومعاف کردے گا۔
حقوق العباد توبہ سے معاف نہیں ہوتے
یہ بات دل میں بٹھالینی چاہئے کہ حقوق العباد توبہ سے معاف نہیں ہوتے اوریہ بھی سمجھ لیں کہ نابالغی میں نمازروزہ تو فرض نہیں ہے،لیکن حقوق العباد نابالغی میں بھی معاف نہیں،اگرکسی لڑکے یالڑکی نے کسی کامالی نقصان کردیاتووارث پرلازم ہے کہ بحیثیت ِولی خو دلڑکے لڑکی کے مال سے اس کی تلافی کرے،اگرچہ صاحبِ حق کومعلوم بھی نہ ہو، اگرولی نے ادائیگی نہیںکی توبالغ ہوکرخود اداکریںیامعافی مانگیں۔
حرام خوری
بہت سے لوگ ظاہری دینداری بھی اختیارکرلیتے ہیں،زبانی توبہ بھی کرتے رہتے ہیں،لیکن گناہ نہیں چھوڑتے،حرام کمائی سے باز نہیں آتے اورلوگوں کی غیبت کوماں کادودھ سمجھتے ہیں،اورذرابھی دل میں احساس نہیںہوتاکہ ہم غیبتیں کررہے ہیں،پس اب دینداری کُرتہ، ٹوپی اور ڈاڑھی اور نماز پڑھنے کی حد تک رہ گئی ہے، صرف زبانی توبہ کرنا اور گناہ نہ چھوڑنا اورحقوق اللہ وحقوق العباد کی تلافی نہ کرنا،یہ کوئی توبہ نہیں، جولوگ رشوت لیتے ہیںیاسودلیتے ہیںیاکاروبارمیںفریب دے کر ناجائز طورپرپیسہ کھینچ لیتے ہیں،ایسے لوگوں کامعاملہ بہت کٹھن ہے، کس کس کے حق کی تلافی کرنی ہے،اس کویاد رکھنااور تلافی کرنا اور حقوق والوں کوتلاش کرکے پہنچاناپہاڑکھودنے سے بھی زیادہ سخت ہے،لیکن جن کے دل میں آخرت کی فکراچھی طرح جاگزیں ہوجائے، وہ بہرحال حقوق والوں کے حقوق کسی نہ کسی طرح پہنچاکرہی دم لیتے ہیں۔
ایک تحصیلدارکی توبہ اورتلافی
ہمارے ایک اُستاد ایک تحصیلدارکاقصہ سناتے تھے کہ جب وہ حکیم الأمت حضرت مولانااشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہوئے اوردینی حالت سُدھرنے لگی اورآخرت کی فکرنے حقوق کی ادائیگی کی طرف متوجہ کیا توانہوں نے اپنے زمانۂ تعیناتی میں جورشوتیں لی تھیں ان کویادکیااورحساب لگایا،عموماً متحدہ پنجاب کی تحصیلوں میںتحصیلداری پر ماموررہے تھے اورجن لوگوں سے رشوتیں لیں تھیں، ان میں زیادہ تر سِکھ قوم کے لوگ تھے،انہوںنے تحصیلوں میںجاکرمقدمات کی فائلیں نکلوائیںاوران کے ذریعے مقدمات لانے والوں کے پتے لئے،پھر گاؤں گاؤں ان کے گھرپہنچے اوربہت سوں سے معافی مانگی اوربہت سوں کو نقدرقم دے کرسبکدوشی حاصل کی۔ان تحصیلدار صاحب سے ہمارے اُستاد موصوف کی خود ملاقات ہوئی تھی اورانہوںنے اپنایہ واقعہ اُن کوخود سنایاتھا۔
حکیم الأمت ؒکے ادائِ حقوق کااہتمام
حضرت شیخ الحدیث صاحب قدّس سرُّہ نے اپنی آپ بیتی میںلکھا ہے کہ حضرت حکیم الأمت قدّس سرُّہ کے والد کی دوبیویاں تھیں، اپنے والد کی وفات کے بعد انہیں خیال آیاکہ ان بیویوں کے مہرادانہیں ہوئے تھے،دونوں بیویاں بھی وفات پاچکی تھیں،حضرت حکیم الأمت قدّس سرُّہ نے ان کے رشتہ داروںکاپتہ چلایااوران میںسے جس جس کو میراث پہنچتی تھی، سب کوان کاحق پہنچایا،ان میں جووفات پاگئے تھے ان کی اولاد کوتلاش کیااورحق دیا،ان میں سے ایک بیوی کاندھلہ کی تھیں، اُن کے کسی عزیز کے حساب میں دوپیسے نکلتے تھے،حضرت والانے مجھے (یعنی حضرت شیخ کو) وکیل بنایا تاکہ ان کاحق پہنچاؤں۔
حکیم الأمت ؒ کے دوواقعے
حکیم االأمت حضرت مولانااشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اورواقعہ یاد آگیا،وہ سفرمیںکہیںتشریف لے جارہے تھے،ساتھ میں سامان بھی تھا،آپ نے ریل کاٹکٹ تو خرید لیالیکن اسٹیشن اسٹاف سے کہا: یہ سامان بھی میرے ساتھ ہے اس کوتول دو،انہوںنے کہاکہ لے جائیے، فکرنہ کیجئے،فرمایا:تم تو چھوڑ دو گے، آگے کیاہوگا؟انہوںنے کہا: آگے جہاں تم کوٹھہرناہوگا،ہمارایہ ٹکٹ چیکرآپ کوگیٹ سے نکال دے گا، فرمایا: اس کے بعد کیاہوگا؟کہنے لگے اس کے بعد اورکیاہے؟فرمایا!اس کے بعد آخرت ہے،اس خیانت کی گرفت سے وہاں کون چھڑائے گا؟ وہاں کے گیٹ سے کون پارکرائے گا؟
حضرت حکیم الأمت رحمۃ اللہ علیہ کاایک قصہ اوریاد آیا ایک مرتبہ کسی اسٹیشن پررات کو(غالباً گاڑی کے انتظارمیں ٹھہرنا پڑ گیا)اسٹیشن ماسٹرنے جس کمرے میں ٹھہرنے کوکہا،اس میں اندھیراتھا،اندھیرے سے وحشت ہوئی، جی چاہا کہ روشنی ہو،لیکن یہ خطرہ ہواکہ یہ شخص ناجائز طورپرریلوے کالالٹین نہ لے آئے،خطرہ گزراہی تھاکہ اس نے ملازم سے کہا کہ بھئی! ان کے لئے ہمارے گھرسے لالٹین جلاؤ،بات یہ ہے کہ جب فکرہوتی ہے تواللہ تعالیٰ کی مدد بھی ہوتی ہے۔
ایک سوال اوراس کاجواب
ممکن ہے بعض حضرات یہ سوال کریںکہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے حقوق تومارلئے اورجوہوناتھا،ہوچکا،اب ان کے پاس پیسے نہیں، لہٰذا حقوق کس طرح اداکریں ؟اوربہت سے لوگو ں کے پاس پیسے توہیں،لیکن اصحابِ حقوق یاد نہیں اور تلا ش کرنے سے بھی نہیں مل سکتے، ان کوپہنچانے کا کوئی راستہ نہیں،اب یہ لو گ کیاکریں؟
اس کے بارے میں عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت میں اس کا حل بھی موجودہے اوروہ یہ کہ جواصحابِ حقوق معلوم ہیں،اُن سے جاکر یا بذریعہ خطوط معافی مانگیں اوراُن کوبالکل خوش کردیں کہ جس سے اندازہ ہوجائے کہ انہوں نے حقوق معاف کردئیے،اگروہ معاف نہ کریںتو اُن سے مہلت لے لیں اورتھوڑاتھوڑاکماکراورآمدنی میں سے بچاکرادا کریں اوراگرادائیگی سے پہلے اُن میں سے کوئی فوت ہوجائے تواس کی اولاد کوہی باقی ماندہ حق پہنچادیں۔
اہلِ حقوق میں سے جولوگ زندہ ہوں لیکن اُن کاپتہ معلوم نہ ہوتوان کی طرف سے ان کے حقوق کے بقدرمسکینوں کوصدقہ دیدیں، جب تک ادائیگی نہ ہو،صدقہ کرتے رہیں،اورتمام حقوق والوں کے لئے خواہ مالی حقوق ہوں اورخواہ آبروکے حقوق ہوں،بہرحال! دعائے خیر اور استغفارہمیشہ پابندی سے کریں۔
جاری ہے ……..

(ماہانہ البلاغ شوال المکرم 1436 ھ)

/* ]]> */